جمعه، خرداد ۲۶، ۱۳۹۱

غزل : تنویر رخ کے گرد بھی زنجیر کھینچ لیں

تنویر ِ رخ کے گرد بھی زنجیر کھینچ لیں
چہرہ پہ وہ جو زلفِ گرہ گیر کھینچ لیں

تحریر خون ِ دل سے بھی لکھ دیں تو کیا ہوا
ممکن کہاں کہ درد کی تصویر کھینچ لیں

لوگوں کے قد بلند نظر آئیں گے ہمیں
بس دل سے ایک جذبۂ تحقیر کھینچ لیں

ہم تلخی ِ حیات کو سوچیں تو کیا لکھیں
الفاظ بات بات پہ شمشیر کھینچ لیں

دیکھیں کسی کا عیب یہ اچھا نہیں رفیعٌ
بہتر ہے اپنی آنکھ کا شہتیر کھینچ لیں
_________________
-
Rafi Bakhsh Qadiri Rafi Badayuni

شنبه، خرداد ۱۳، ۱۳۹۱

غزل : کبھی وہ خود سے بھی برہم دکھائی دیتا ہے

کبھی وہ خود سے بھی برہم دکھائی دیتا ہے
کبھی وہ لطف مجسّم دکھائی دیتا ہے

زمانہ ہوتا ہے مجبور رخ بدلنے پر
کسی کا عزم جو محکم دکھائی دیتا ہے

عروس دہر کی رنگینئ ِ جمال میں اب
ترے شباب کا عالم دکھائی دیتا ہے

تلاش ِ دوست مسافت ہے ایک لامحدود
کہ جس قدر بھی چلیں کم دکھائی دیتا ہے
___________________ 

Rafi Bakhsh Qadri Rafi Badayuni
 

دوشنبه، اردیبهشت ۲۵، ۱۳۹۱

غزل : صاف رہنا ہے تو کپڑوں کو بدلتے رہئے

صاف رہنا ہے تو کپڑوں کو بدلتے رہئے
گردآلام کی کیوں جسم پہ ملتے رہئے

راہ دشوار بھی آسان تو ہو سکتی ہے
لیکن اس راہ پہ کچھ دیر تو چلتے رہئے

کیسا انصاف یہاں دادرسی کب ہوگی
اپنا ایمان لئے لاکھ مچلتے رہئے

ان کی قربت بھی تو دوری سے نہیں ہے بہتر
پھر بھی جی چاہے تو اس آگ میں جلتے رہئے

پاس آداب محبت کا تقاضا ہے رفیعٌ
بے خودی کچھ بھی کہے آپ سنبھلتے رہئے
____________


Ghazal by Rafi Bakhsh Qadri Rafi Badayuni
 

شنبه، اردیبهشت ۰۲، ۱۳۹۱

غزل : دشتِ جنوں ہے رنج کا خوگر ہی لے چلیں

دشتِ جنوں ہے رنج کا خوگر ہی لے چلیں
مجبور ہیں کہ ہم دلِ مضطر ہی لے چلیں

بربادیوں کا جشن منانے کے واسطے
دور ِ خزاں سے مانگ کے منظر ہی لے چلیں

معلوم گھر کی بے سروسامانیاں نہ ہوں
کچھ لوگ آگئے ہیں تو دفتر ہی لے چلیں

یادوں کے گھر میں آج بسر کیسے ہوگی رات
ٹوٹی ہوئی امید کے ساغر ہی لے چلیں

خوشبو کسی کے قرب کی آتی رہے رفیعٌ
دل میں خیالِ زلفِ معطر ہی لے چلیں
___________
 
 
Ghazal by Rafi Badayuni
 

دوشنبه، فروردین ۲۸، ۱۳۹۱

غزل : سخت آئینِ وفا ہوں گے تو کیا رہ جاۓ گا

سخت آئینِ وفا ہوں گے تو کیا رہ جاۓ گا
صرف باقی ایک معیار و وفا رہ جاۓ گا

واسطہ تعبیر سے کیا خواب کا رہ جاۓ گا
جب بھی قول و فعل میں کچھ فاصلا رہ جاۓ گا

واسطہ کوئی عمل سے اس کا کیا رہ جاۓ گا
سوچنا عادت ہے جس کی سوچتا رہ جاۓ گا

نقش پا سب وقت کے ہاتھوں سے مٹ سکتے نہیں
راہ میں روشن کہیں تو اک دیا رہ جاۓ گا

اس نظام ِزندگی میں کس کو اتنی فکر ہے
میں اگر آگے بڑھا تو دوسرا رہ جاۓ گا

صرف رشتے توڑ دینا مسئلہ کا حل نہیں
حل نہیں ڈھونڈا تو باقی مسئلہ رہ جاۓ گا

الجھنوں کے کتنے لامحدود رشتے دل سے ہیں
مبتلا جو ہو گیا وہ مبتلا رہ جاۓ گا

دل کی بربادی ضروری اس لئے بھی ہے رفیعٌ
زندگی کی داستاں میں اک خلا رہ جاۓ گا
_______________
 
Ghazal by Rafi Bakhsh Qadri 'Rafi' Badayuni
 

پنجشنبه، فروردین ۱۰، ۱۳۹۱

غزل : دلِ وحشی روایاتِ جنوں کا صرف قائل تھا

دلِ وحشی روایاتِ جنوں کا صرف قائل تھا
نہ دنیا اس سے واقف تھی نہ وہ دنیا کے قابل تھا

ستم کا کوئی خوگر تھا نہ کوئی شخص بسمل تھا
جو ہر چہرے سے ڈرتا تھا وہ خود ہی اپنا قاتل تھا

غموں کے راستے سے شہر ِ الفت تک تو آ جاتے
ضرورت اس کی سب کو تھی مگر احساس مشکل تھا

چمن کو دیکھنے کچھ لوگ آئے تھے وہ کہتے تھے
یہاں کچھ پھول ہنستے تھے یہاں شور ِ عنادل تھا

کرم فرما ہی ہوگا خندہ زن تھا جو تباہی پر
بہت سے لوگ تھے یہ کیا بتائیں کون شامل تھا

ادھورے تبصرے سب تھے تباہی پر مری لیکن
نگاہِ ناز نے جو کچھ کہا وہ سیر ِ حاصل تھا

شکایت وقت سے حالات سے کرتے تو کیوں کرتے
حریفوں میں ہمارے جب ہمارا دل بھی شامل تھا

ہزاروں حادثوں کا داستانوں کا فسانوں کا
کوئی عنواں اگر قائم کیا جاتا تو بس دل تھا
________________

Ghazal by Rafi Badayuni
 

چهارشنبه، اسفند ۲۴، ۱۳۹۰

غزل : وہ کبھی کارگر نہیں ہوتی

وہ کبھی کارگر نہیں ہوتی
بات جو مختصر نہیں ہوتی

لوگ مرعوب ہو تو جاتے ہیں
قدر بے داد گر نہیں ہوتی

نفرتوں کی فصیل حائل ہے
دل کی دل کو خبر نہیں ہوتی

دل کے جلنے کی بات عام ہوئی
روشنی کس کے گھر نہیں ہوتی

تشنہ رہتا مرا مذاقِ سفر
دور منزل اگر نہیں ہوتی

وہ قیامت کی رات ہوتی ہے
جب امیدِ سحر نہیں ہوتی

مسکراہٹ پہ جبر، دھوپ تو ہے
رونقِ بام و در نہیں ہوتی

فرق طرزِ عمل سے ہوتا ہے
ضد کسی بات پر نہیں ہوتی

زخم راحت اثر تو ہو جائے
زحمتِ یک نظر نہیں ہوتی

گھر سجائیں تو کس لئے کہ رفیعٌ
ہر خبر معتبر نہیں ہوتی
_____________

Ghazal by Rafi Badayuni