شنبه، دی ۲۴، ۱۳۹۰

غزل : کب تک کسی خلوص کا یوں امتحاں چلے

کب تک کسی خلوص کا یوں امتحاں چلے
کب تک فریب شوخی ِ لفظ و بیاں چلے

پہنچا کے ہم کو کوۓ ملامت میں کیا کہیں
بے کیفی ِ حیات کے منظر کہاں چلے

کچھ فاصلہ رہے تو چلے کاروانِ شوق
سایہ فگن ہو زلف تو کیوں کارواں چلے

عالم یہ ہے کہ بار گراں ہے وجود تک
ارماں یہ ہے کہ ساتھ ہمارے جہاں چلے

شائستۂ جنوں تھا وہ ماحول بھی مگر
ہم بھی دیار ِ شوق میں بچ کر کہاں چلے

ہو آبلوں کو پاؤں کے کانٹوں کی جب تلاش
کیوں فرش ِ گل پہ پھر مری عمر ِ رواں چلے

شہر ِ و خرد کو محبس و زنداں نہ کیوں کہیں
جب ہر قدم سفر میں کوئی پاسباں چلے
____________

Rafi Badayuni

چهارشنبه، دی ۲۱، ۱۳۹۰

غزل : جب اُن کے کوچۂ جنّت نشاں سے آئے ہیں

جب اُن کے کوچۂ جنّت نشاں سے آئے ہیں
غموں کو فکر ہوئی ہے کہاں سے آئے ہیں

اندھیری رات کو کہنا تھا دن، تو کہہ دیتے
مصیبتوں میں خود اپنے بیاں سے آئے ہیں

جو داستان ِجہاں میں حسین ہیں عنواں
سب ایسے نام مری داستاں سے آئے ہیں

انھیں شکایتِ بے مہریِ زمانہ کیا
خراب حال جو اپنے مکاں سے آئے ہیں

یہ سانحات جو دنیاۓ دل کا ہیں حصّہ
یہ سانحات بھی نظمِ جہاں سے آئے ہیں

سنیں گے ریت کی موجوں کے رخ کی باتیں بھی
زرا ٹھہر کہ ابھی گلستاں سے آئے ہیں

بنالے ذات کا محبس تو یہ بھی اچھا ہے
کہ تنگ ہم بھی دلِ بدگماں سے آئے ہیں

اب ان کو دل میں جگہ دے کہ کوئی ٹھکرا دے
پیام امن تو ہندوستاں سے آئے ہیں
_______________

پنجشنبه، دی ۱۵، ۱۳۹۰

غم زدہ ہو کے جو حالات سے شام آۓ گی

غم زدہ ہو کے جو حالات سے شام آۓ گی
میرے کام آئی نہ وہ آپ کے کام آۓ گی

کیا خبر تھی کہ ٹھہر جاۓ گا چلتا سورج
صبح آئے گی نہ مرے پاس شام آئے گی

اپنے محبوب سے امیدِ کرم کرتے ہیں
جس کی کوشش ہے وہ اس شخص کے کام آۓ گی
__________________

Rafi Badayuni

دوشنبه، دی ۱۲، ۱۳۹۰

غزل : جنوں نواز نگاہوں میں حوصلہ نہ رہا

جنوں نواز نگاہوں میں حوصلہ نہ رہا
خِرد کے دور میں کچھ دل سے واسطہ نہ رہا

ہمارے حق میں زمانے کا فیصلہ نہ رہا
زبان و دل میں اگر کوئی فاصلہ نہ رہا

کھڑے تھے سہمے ہوئے میکدے کے پاس وہی
کہ جن میں زیست سے لڑنے کا حوصلہ نہ رہا

لٹا کے دولتِ صبر و قرار آئے ہیں
خلش ہو جس کی کوئی ایسا حادثہ نہ رہا

حقیقتوں نے طلسمِ فریب توڑ دیا
مگر حسین خیالوں کا سلسلہ نہ رہا

سیاہ چہروں پہ نازاں ہیں لوگ کیوں شاید
کسی کے سامنے اب کوئی آئینہ نہ رہا

بڑھوں تو شہر ِملامت رکوں تو دشتِ جنوں
کدھر کو جاؤں کہ اب کوئی راستہ نہ رہا
_____________

جمعه، دی ۰۹، ۱۳۹۰

غزل : اب کرم ہو کہ یہ اتمامِ کرم رہنے دے

اب کرم ہو کہ یہ اتمامِ کرم رہنے دے
دلِ مجبور میں کچھ حسرتِ غم رہنے دے

کوئی رہتا ہے جو با دیدۂ نم رہنے دے
بارِ خاطر ہے اگر لطف و کرم، رہنے دے

کوچۂ یار سے پھر یادوں کی خوشبو آئی
تذکرہ خلد کا اے شیخِ حرم رہنے دے

شوق کی راہ میں حالات کے رخ کو بھی سمجھ
ضبط سے کام بھی لے، اگلا قدم رہنے دے

آشنا لذتِ آزاد سے وہ بھی، دل بھی
کس طرح اس سے کہیں، مشقِ ستم رہنے دے

مسکراہٹ کے حجابوں میں چھپانے والے
غم نمایاں ہی رہے گا اسے غم رہنے دے

جو حوادث کے اندھیروں میں بھی بے نور نہ ہو
یاد کے سینے پہ وہ نقشِ قدم رہنے دے

ٹیڑھی ترچھی سی وہ قسمت کی لکیریں ہیں رفیع
جس طرح کوئی حسیں زلف میں خم رہنے دے
 ______________

دوشنبه، دی ۰۵، ۱۳۹۰

غزل : مری نگاہ کو حسنِ جہاں پکارے گا

مری نگاہ کو حسنِ جہاں پکارے گا
مرے شعور کو عزمِ جواں پکارے گا

چمن سے اٹھ کے چلے جائیں گے جو دیوانے
بہار روئے گی خود باغباں پکارے گا

جو سن رہا ہے فغاں کائنات کے دل کی
قلم اٹھائے تو زورِ بیاں پکارے گا

وہ جس کے ظرف سے قائم ہے میکدے کا نظام
نظر نہ آئے تو پیرِ مغاں پکارے گا

نظر ملا نہ سکے گا عمل سے جب بھی یقیں
تو اس یقین کو اکثر گماں پکارے گا

وہ نازِ بزمِ جہاں ہو کہ ننگِ بزمِ جہاں
بشر کی ذات کو سارا جہاں پکارے گا

ترا کرم تو پکارے گا کیا مرے دل کو
اگر پکارے گا اس کو زیاں پکارے گا

ہر ایک چہرہ کو یوں دیکھتا رہا ہے رفیع
کہ جیسے اس کو کوئی مہرباں پکارے گا
____________

جمعه، دی ۰۲، ۱۳۹۰

غزل : غم کے ماروں پہ زمانے کی نظر بھی ہوگی

غم کے ماروں پہ زمانے کی نظر بھی ہوگی
یہ حقیقت ہے مگر ان کو خبر بھی ہوگی

زیست منزل بھی، سفر بھی ہے حسیں جادہ بھی
زیست کی طرح کوئی راہ گزر بھی ہو گی

بات کہنے کا سلیقہ بھی نمایاں ہوگا
مختصر بات زرا ذود اثر بھی ہوگی

عزمِ اربابِ ادب نظمِ چمن بدلے گا
کارگر کوششِ اربابِ ہنر بھی ہوگی

دل کی دنیا میں بھی طوفان اٹھیں گے لیکن
کوئی جنبش تو پسِ پردۂ در بھی ہوگی

مسکراؤ کہ جوابِ غمِ دوراں ہو جائے
یوں بسر ہونے کو با دیدۂ تر بھی ہوگی

مجھ کو منزل کی طلب میری طلب منزل کو
فکر جو مجھ کو اِدہر ہے وہ اُدہر بھی ہوگی

صرف ماحول بدل جائے یہ ممکن ہے رفیع
یوں چبھن درد کی ہنگامِ سحر بھی ہوگی
____________________