جمعه، آذر ۱۸، ۱۳۹۰

غزل : دل کو وقفِ غم و آلام بنایا جاۓ

دل کو وقفِ غم و آلام بنایا جاۓ
یہ اشارا تو کسی سمت سے پایا جاۓ

میرے غم خانے پہ ہر روز ہے آہٹ کیسی
کون آتا ہے اسے آج بلایا جاۓ

یوں میرے ساتھ رہا کرتے ہیں غم دنیا کے
جیسے ہمراہ کسی شخص کے سایا جاۓ

کوئی مقصد ہو تو پھر دار بھی کچھ بات نہیں
یوں اگر شور مچانا ہے مچایا جاۓ

ہائے مجبوریِ حالات کہ اب کہتا ہوں
میرا معیار مرے پاس نہ لایا جاۓ

جن کو بس فکرِ کم و بیش ہے کیا ان سے کہیں
میکدہ ساز کوئی ہو تو بلایا جاۓ

خیر انجام محبت نہ ہو بس میں نہ سہی
بس میں یہ بھی تو نہیں اُن کو بھلایا جاۓ
______________



دوشنبه، آذر ۱۴، ۱۳۹۰

غزل : غیر ممکن تو نہیں صاحب عرفاں ہونا

غیر ممکن تو نہیں صاحبِ عرفاں ہونا
شرط ہے سنگِ ملامت پہ بھی خانداں ہونا

چھوڑ کر لالہ ؤ گل خار بداماں ہونا
آج کے دور میں دشوار ہے انساں ہونا

دورِ حاضر پہ یہ اک طنز نہیں پھر کیا ہے
کوئی انسان نظر آئے تو حیراں ہونا

عین فطرت ہے جنھیں غم ہی ملے ہوں ان کو
کوئی امید نظر آئے تو حیراں ہونا

اپنے حالات کی زنجیر بھی دیکھو لوگو!
سب کی قسمت میں کہاں نازشِ دوراں ہونا

دورِ جمہور میں بھی جرم ہے حیرت ہے یہی
ایک نادار کے دل میں کوئی ارماں ہونا

حد سے احساس کے بڑھنے کا ہے انجام رفیع
اپنی ہستی کے لئے آپ ہی زنداں ہونا
 ______________

پنجشنبه، آذر ۱۰، ۱۳۹۰

غزل : پھر وہی ذکرِ غمِ یار یہ قصّہ کیا ہے

پھر وہی ذکرِ غمِ یار یہ قصّہ کیا ہے
ایک ہی بات پہ اصرار یہ قصّہ کیا ہے

کچھ بتا جذبۂ بیدار یہ قصّہ کیا ہے
آرزوۓ رسن و دار یہ قصّہ کیا ہے

دل میں کیوں آرزوۓ زخم نے کروٹ بدلی
التفاتِ نگۂ یار یہ قصّہ کیا ہے

دب کے ماحول سے ہرحال میں سمجھوتہ کیوں
غیرتِ جذبۂ خوددار یہ قصّہ کیا ہے

غم نصیبوں کا سوال آتا ہے جب بھی یارو
کیوں بدل جاتے ہیں معیار یہ قصّہ کیا ہے

رہنما کس کو کہیں کس کو لٹیرا سمجھیں
سب کا ہے ایک سا کردار یہ قصّہ کیا ہے

اجنبی شخص کے بارے میں خدا جانے کیوں
میں نے سوچا ہے کئی بار یہ قصّہ کیا ہے

خود پرستوں کے لئے عشق و نشاطِ عالم
حق پرستوں کے لئے دار یہ قصّہ کیا ہے

جب انھیں کوئی تعلق نہیں ہم سے تو رفیع
ان کا غم کیوں ہے وفادار یہ قصّہ کیا ہے
_____________



یکشنبه، آذر ۰۶، ۱۳۹۰

غزل : بیانِ درد بہ ایں حالِ زار کیا ہوگا

بیانِ درد بہ ایں حالِ زار کیا ہوگا
نہ مجھ کو ہوش نہ دل کو قرار کیا ہوگا

شکستِ بندوسلاسل کی اک صدا کے سوا
کوئی پیام بہ نامِ بہار کیا ہوگا

محبتوں کے یہ بادل بہ شکل دیدہٴ تر
برس بھی جائیں سرِ کوہسار کیا ہوگا

ترے سلوک سے ایسا نہ ہو کہ دیوانے
یہ سوچنے لگیں انجام کار کیا ہوگا

نظر سے ہم سنایا ہے دل کا حال رفیع
اب اس سے بڑھ کے کوئی اختصار کیا ہوگا
_________


چهارشنبه، آذر ۰۲، ۱۳۹۰

غزل : خفا ہے کوئی کسی سے نہ کوئی بدظن ہے

خفا ہے کوئی کسی سے نہ کوئی بدظن ہے
ہر ایک شخص یہاں آپ اپنا دشمن ہے

کسی غریب کا گھر ہے بس اور کیا کہئے
یہ میرا دل جو سبھی آفتوں کا مسکن ہے

وہ زندگی جسے خونِ جگر دیا میں نے
وہ زندگی تو مرے نام سے بھی بدظن ہے

خدا کا شکر ہے غم کی ہواؤں میں بھی رفیع
چراغِ زبست بہرحال آج روشن ہے
__________


جمعه، آبان ۲۷، ۱۳۹۰

نظریں اٹھائیں بھی تو محافظ تھی احتیاط

نظریں اٹھائیں بھی تو محافظ تھی احتیاط
شائستہ جنوں وہ اشارا نہ ہو سکا

امید کے بغیر بھی جینا محال تھا
امید ہی پہ صرف گزارا نہ ہو سکا



غزل : اپنے غرور و ناز پہ شرما گئی ہَوا

اپنے غرور و ناز پہ شرما گئی ہَوا
دیکھا خرامِ ناز تو گھبرا گئی ہَوا

اک آن میں نسیم ہے اک آن میں سموم
شاید مزاجِ یار سے شہ پا گئی ہَوا

لگتا ہے جیسے سانس بھی لیتی نہیں فضا
یہ کس کے انتظار میں پتھرا گئی ہَوا

چھائی گھٹا تو یادوں سے جلنے لگا بدن
بارش ہوئی تو آگ سی برسا گئی ہَوا

لائی پیامِ یار کبھی بوۓ پیرہن
تسکین دے گئی کبھی تڑپا گئی ہوا

بدمست ہوکے جیسے کوئی رند آ گیا
چھو کر کسی کے ہونٹوں کو یاد آ گئی ہَوا

وہ ضد ہے روشنی سے کہ الله کی پناہ
روشن جہاں چراغ ہوا آ گئی ہَوا