چهارشنبه، خرداد ۱۹، ۱۳۹۵

Ghazal : Bataa Na Manzile Janaa Ka Rasta Mujhko

Rafi Badayuni Poetry
A Ghazal by Rafi Bakhsh Qadiri Rafi Badayuni

 غزل

بتا نہ منزلِ جاناں کا راستہ مجھ کو
بہت ہے شوق فراواں کا حوصلہ مجھ کو

خود اپنے شعروں پہ اکثر گماں گزرتا ہے
سنا رہا ہے کوئی جیسے واقعہ مجھ کو

جنوں نواز اداؤں کے روبرو یارو!
نہ اب ہے ضبط کا یارا، نہ حوصلہ مجھ کو

تلاشِ دوست کی راہیں عجیب راہیں ہیں
کہ قربتوں میں بھی لگتا ہے فاصلہ مجھ کو

مرا خلوص مری زندگی کا حصّہ ہے
کسی کا طرز عمل اس سے واسطہ مجھ کو

میں راہِ زیست میں تنہا کبھی نہیں رہتا
کسی کی یادوں کا ملتا ہے قافلہ مجھ کو

رفیع بخش قادری رفیع بدایونی


ग़ज़ल

बता न मंज़िले जानां का रास्ता मुझको
बहुत है शौक़े फ़रावां का हौसला मुझको

ख़ुद अपने शेरों पे अक्सर गुमाँ गुज़रता है
सुना रहा है कोई जैसे वाक़िआ मुझको

तलाशे दोस्त की राहें अजीब राहें हैं
कि क़ुरबतों में भी लगता है फ़ासला मुझको

मैं राहे ज़ीस्त में तन्हा कभी नहीं रहता
किसी की यादों का मिलता है क़ाफ़िला मुझको

रफ़ी बख़्श क़ादिरी रफ़ी बदायूनी

Rafi Badayuni Poetry
Ghazal by Rafi Bakhsh Qadiri Rafi Badayuni

جمعه، دی ۱۸، ۱۳۹۴

غزل : سلوکِ دوست سے بیزار کیا ہوا ہوں میں

غزل

سلوکِ دوست سے بیزار کیا ہوا ہوں میں
خیال یہ ہے بلندی سے گر گیا ہوں میں

بدلتے وقت نے ہر چیز کو بدل ڈالا
خلوص ویسا کہاں ہے جو سوچتا ہوں میں

مجھے لگا ہے کہ تحلیل ہو گیا ہے وجود
کبھی جب ان کے خیالوں میں کھو گیا ہوں میں

محبتوں کا حسیں دور آنے والا ہے
یہ رخ بھی ان کی عداوت کا دیکھتا ہوں میں

مرے شعور میں ماحول کی ہے بے چَینی
نواۓ وقت ہوں اک درد کی صدا ہوں میں

شکایتوں میں گنوانے سے اس کو کیا حاصِل
زرا سا وقت ملا ہے تو آ گیا ہوں میں

رہِ حیات کے ہر موڑ پر یہ لگتا ہے
فریب کار کی باتوں میں آ گیا ہوں میں

اب اپنی زیست کی تپتی ہوئی سی راہوں پر
کسی درخت کے ساۓ کو ڈھونڈھتا ہوں میں

مجھے یہ طرز تجاہل عجیب لگتا ہے
وہ کہہ رہے ہیں کہیں آپ سے ملا ہوں میں

رفیع بخش قادری رفیع بدایونی

A Ghazal by Rafi Bakhsh Qadiri Rafi Badayuni

Urdu Poetry by Rafi Bakhsh Qadiri Rafi Badayuni

ग़ज़ल

सुलूके दोस्त से बेज़ार क्या हुआ हूँ मैं
ख़्याल ये है बुलन्दी से गिर गया हूँ मैं

बदलते वक़्त ने हर चीज़ को बदल डाला
ख़ुलूस वैसा कहाँ है जो सोचता हूँ मैं

मुझे लगा है कि तहलील हो गया है वजूद
कभी जब उन के ख़यालों में खो गया हूँ मैं

मुहब्बतों का हसीं दौर आने वाला है
ये रुख़ भी उन की अदावत का देखता हूँ मैं

अब अपनी ज़ीस्त की तपती हुई सी राहों पर
किसी दरख़्त के साये को ढूँढता हूँ मैं

रफ़ी बख़्श क़ादिरी रफ़ी बदायूनी

جمعه، آبان ۲۲، ۱۳۹۴

غزل : نہ دوستوں کو سناؤ نہ اجنبی سے کہو

غزل

نہ دوستوں کو سناؤ نہ اجنبی سے کہو
تمہیں ہے مجھ سے شکایت تو پھر مجھ ہی سے کہو

یہ بات کیا ہے کہ ہر شخص کو شکایت ہے
کسی کے کام تو آۓ یہ زندگی سے کہو

کبھی تو جرأتِ رِندانہ کام میں لاؤ
یہ کوئی بات ہے ہر بات بے بسی سے کہو

بھرم اسی میں ہے ترکِ تعلقات کی بات
نہ ہم کسی کو بتائیں نہ تم کسی سے کہو

نیا خیال، نیا طرز لازمی ہے مگر
کچھ ایسی باتیں بھی ہیں جن کو سادگی سے کہو

رفیع بخش قادری رفیع بدایونی

Rafi Badayuni Poetry
A Ghazal by Rafi Bakhsh Qadiri Rafi Badayuni

Rafi Badayuni Urdu Poetry
A Ghazal by Rafi Bakhsh Qadiri Rafi Badayuni
ग़ज़ल

न दोस्तों को सुनाओ न अजनबी से कहो
तुम्हें है मुझसे शिकायत तो फिर मुझही से कहो

ये बात क्या है कि हर शख़्स को शिकायत है
किसी के काम तो आये ये ज़िंदगी से कहो

भरम इसी में है तर्के ताल्लुक़ात की बात
न हम किसी को बतायें न तुम किसी से कहो

नया ख़्याल, नया तर्ज़ लाज़मी है मगर
कुछ ऐसी बातें भी हैं जिनको सादगी से कहो

रफ़ी बख़्श क़ादिरी रफ़ी बदायूनी

پنجشنبه، شهریور ۱۲، ۱۳۹۴

غزل : ایک میں پیکرِ تسلیم و رضا ہو جیسے

غزل

ایک میں پیکرِ تسلیم و رضا ہو جیسے
ایک تم دشمنِ اربابِ وفا ہو جیسے

یوں مجھے اُن کی عنایت کا خیال آتا ہے
ایک افسانہ کبھی میں نے پڑھا ہو جیسے

زندگی اتنی گراں بار نظر آتی ہے
ایک مجرم کے لئے کوئی سزا ہو جیسے

دل کے گوشے میں تمناؤں کی فریادیں ہیں
یا کہیں رات گئے شور اُٹھا ہو جیسے

ایسے بیگانۂ حالات وہ رہتے ہیں رفیع
کچھ کیا ہو نہ کہا ہو نہ سنا ہو جیسے


رفیع بخش قادری رفیع بدایونی

Rafi Badayuni Poetry
A Ghazal by Rafi Bakhsh Qadiri Rafi Badayuni

Rafi Badayuni Poetry
A Ghazal by Rafi Bakhsh Qadiri Rafi Badayuni

ग़ज़ल

एक मैं पैकरे तस्लीम ओ रज़ा हो जैसे
एक तुम दुश्मने अरबाबे वफ़ा हो जैसे

यूँ मुझे उनकी इनायत का ख़्याल आता है
एक अफ़साना कभी मैंने पढ़ा हो जैसे

ज़िंदगी इतनी गिरां-बार नज़र आती है
एक मुजरिम के लिये कोई सज़ा हो जैसे

दिल के गोशे में तमन्नाओं की फर्यादें हैं
या कहीं रात गये शोर उठा हो जैसे

ऐसे बगानाए हालात वह रहते हैं रफ़ी
कुछ किया हो न कहा हो न सुना हो जैसे

रफ़ी बख़्श क़ादिरी रफ़ी बदायूनी

شنبه، اردیبهشت ۱۹، ۱۳۹۴

غزل : جذبۂ حق و صداقت کو دبائیں کیسے

غزل

جذبۂ حق و صداقت کو دبائیں کیسے
بات بن جائے مگر بات بنائیں کیسے

اپنی رودادِ غمِ عشق سنائیں کیسے
اُن سے وابستہ ہیں حالات بتائیں کیسے

لوگ چہرے سے سمجھ لیتے ہیں دل کی حالت
اَب ترا راز چھپائیں تو چھپائیں کیسے

حسن تو آج بھی دامن کشِ دل ہے لیکن
اپنے حالات کو ہم بھول بھی جائیں کیسے

غیر ممکن ہے اندھیرے میں تلاشِ منزل
روشنی کچھ تو ملے راستہ پائیں کیسے

نعمتِ درد کبھی لزتِ غم بخشی ہے
اُن کے احسان بھلا بھول بھی جائیں کیسے

بارِ غم کی بھی کوئی حد ہے زمانے والو!
روز افزوں ہو تو یہ بار اٹھائیں کیسے

رفیع بخش قدری رفیع بدایونی
_______________________

Rafi Bakhsh Qadiri Rafi Badayuni

Rafi Badayuni Poetry
A Ghazal by Rafi Bakhsh Qadiri Rafi Badayuni

ग़ज़ल

जज़्बा ए हक़ ओ सदाक़त को दबायें कैसे
बात बन जाये मगर बात बनायें कैसे

अपनी रूदाद ए ग़म ए इश्क़ सुनायें कैसे
उनसे वाबसता हैं हालात बतायें कैसे

लोग चेहरे से समझ लेते हैं दिल के हालात
अब तेरा राज़ छुपायें तो छुपायें कैसे

ग़ैर मुमकिन है अंधेरे में तलाश ए मंज़िल
रौशनी कुछ तो मिले रास्ता पायें कैसे

रफ़ी बख़्श क़ादिरी रफ़ी बदायूनी

سه‌شنبه، اسفند ۰۵، ۱۳۹۳

غزل : کوئی شریکِ غم دوستاں نہیں ملتا

غزل


کوئی شریکِ غم دوستاں نہیں ملتا
میں ڈھونڈتا ہوں مگر مہرباں نہیں ملتا

وہ اُن کے لطف و کرم ہوں کہ اپنی تیرہ شبی
فسانۂ غمِ دوراں کہاں نہیں ملتا

یہ ان کی بزم نہیں ہے یہ بزمِ رنداں ہے
یہاں کسی سے کوئی بدگماں نہیں ملتا

یہ شہر، شہر ستم گر نہیں تو پھر کیا ہے
سکون دل کسی عنواں یہاں نہیں ملتا

زرا بھی جرأتِ فرہاد ہو تو دنیا میں
غم و ملال کا کوہِ گراں نہیں ملتا

جو میرے ذہن کی تصویر کے مطابق ہو
مجھے تو آج وہ ہندوستاں نہیں ملتا

یہی بہت ہے محبّت کی زندگی کے لئے
وہ مہرباں نہ سہی بدگماں نہیں ملتا

یہ میرا جذبِ محبت، خلوصِ مہر و وفا
میں کس کی نزر کروں قدرداں نہیں ملتا

نصیب تجھ کو بھی عرفانِ غم ہوا ہے رفیع
بیان درد بہ طرزِ فغاں نہیں ملتا

رفی بخش قدری رفی بدایونی
__________________________

Rafi Badayuni Poetry
Rafi Bakhsh Qadiri Rafi Badayuni

ग़ज़ल

कोई शरीके ग़म दोस्ताँ नहीं मिलता
मैं ढूँडता हूँ मगर मेहरबाँ नहीं मिलता

यह उनकी बज़्म नहीं है यह बज़्मे रिंदाँ है
यहाँ किसी से कोई बदगुमाँ नहीं मिलता

यह शहर, शहर सितम गर नहीं तो फिर क्या है
सुकूने दिल किसी उन्वाँ यहाँ नहीं मिलता

जो मेरे ज़हन की तस्वीर के मुताबिक़ हो
मुझे तो आज वह हिंदोस्ताँ नहीं मिलता

यह मेरा जज़्बे मोहब्बत, खुलूसे महरो वफ़ा
मैं किस की नज़र करूँ क़दरदाँ नहीं मिलता

रफ़ी बख़्श क़ादिरी रफ़ी बदायूनी

پنجشنبه، آذر ۱۳، ۱۳۹۳

غزل : ملے ہے جب بھی وہ تنہا لگے ہے

غزل

ملے ہے جب بھی وہ تنہا لگے ہے
خود اپنی ذات میں الجھا لگے ہے

خوشی کیا غم بھی کب اپنا لگے ہے
دل اچھا ہو تو سب اچھا لگے ہے

اکیلا کر دیا ہے سب نے مجھ کو
تصور بھی گریزاں سا لگے ہے

ادھر بھی کوئی مجبوری تو ہوگی
کسے دل توڑنا اچھا لگے ہے

مجھے دور ترقی میں بھی انساں
شعور و شعر کا پیاسا لگے ہے

زمانے کی ہوا پر کیوں ہو نازاں
ہوا کو رخ بدلتے کیا لگے ہے

خدا شاہد مری حق بیں نظر کو
جو اچھا ہے وہی اچھا لگے ہے

کبھی ہے زندگی غم سے پریشاں
کبھی غم زندگی جیسا لگے ہے

رفیع بخش قادری رفیع بدایونی
_______________________________

Rafi Badayuni Poetry
Urdu Ghazal by Rafi Bakhsh Qadiri Rafi Badayuni





Find him on Facebook.