شنبه، اردیبهشت ۱۹، ۱۳۹۴

غزل : جذبۂ حق و صداقت کو دبائیں کیسے

غزل

جذبۂ حق و صداقت کو دبائیں کیسے
بات بن جائے مگر بات بنائیں کیسے

اپنی رودادِ غمِ عشق سنائیں کیسے
اُن سے وابستہ ہیں حالات بتائیں کیسے

لوگ چہرے سے سمجھ لیتے ہیں دل کی حالت
اَب ترا راز چھپائیں تو چھپائیں کیسے

حسن تو آج بھی دامن کشِ دل ہے لیکن
اپنے حالات کو ہم بھول بھی جائیں کیسے

غیر ممکن ہے اندھیرے میں تلاشِ منزل
روشنی کچھ تو ملے راستہ پائیں کیسے

نعمتِ درد کبھی لزتِ غم بخشی ہے
اُن کے احسان بھلا بھول بھی جائیں کیسے

بارِ غم کی بھی کوئی حد ہے زمانے والو!
روز افزوں ہو تو یہ بار اٹھائیں کیسے

رفیع بخش قدری رفیع بدایونی
_______________________

Rafi Bakhsh Qadiri Rafi Badayuni

Rafi Badayuni Poetry
A Ghazal by Rafi Bakhsh Qadiri Rafi Badayuni

ग़ज़ल

जज़्बा ए हक़ ओ सदाक़त को दबायें कैसे
बात बन जाये मगर बात बनायें कैसे

अपनी रूदाद ए ग़म ए इश्क़ सुनायें कैसे
उनसे वाबसता हैं हालात बतायें कैसे

लोग चेहरे से समझ लेते हैं दिल के हालात
अब तेरा राज़ छुपायें तो छुपायें कैसे

ग़ैर मुमकिन है अंधेरे में तलाश ए मंज़िल
रौशनी कुछ तो मिले रास्ता पायें कैसे

रफ़ी बख़्श क़ादिरी रफ़ी बदायूनी

سه‌شنبه، اسفند ۰۵، ۱۳۹۳

غزل : کوئی شریکِ غم دوستاں نہیں ملتا

غزل


کوئی شریکِ غم دوستاں نہیں ملتا
میں ڈھونڈتا ہوں مگر مہرباں نہیں ملتا

وہ اُن کے لطف و کرم ہوں کہ اپنی تیرہ شبی
فسانۂ غمِ دوراں کہاں نہیں ملتا

یہ ان کی بزم نہیں ہے یہ بزمِ رنداں ہے
یہاں کسی سے کوئی بدگماں نہیں ملتا

یہ شہر، شہر ستم گر نہیں تو پھر کیا ہے
سکون دل کسی عنواں یہاں نہیں ملتا

زرا بھی جرأتِ فرہاد ہو تو دنیا میں
غم و ملال کا کوہِ گراں نہیں ملتا

جو میرے ذہن کی تصویر کے مطابق ہو
مجھے تو آج وہ ہندوستاں نہیں ملتا

یہی بہت ہے محبّت کی زندگی کے لئے
وہ مہرباں نہ سہی بدگماں نہیں ملتا

یہ میرا جذبِ محبت، خلوصِ مہر و وفا
میں کس کی نزر کروں قدرداں نہیں ملتا

نصیب تجھ کو بھی عرفانِ غم ہوا ہے رفیع
بیان درد بہ طرزِ فغاں نہیں ملتا

رفی بخش قدری رفی بدایونی
__________________________

Rafi Badayuni Poetry
Rafi Bakhsh Qadiri Rafi Badayuni

ग़ज़ल

कोई शरीके ग़म दोस्ताँ नहीं मिलता
मैं ढूँडता हूँ मगर मेहरबाँ नहीं मिलता

यह उनकी बज़्म नहीं है यह बज़्मे रिंदाँ है
यहाँ किसी से कोई बदगुमाँ नहीं मिलता

यह शहर, शहर सितम गर नहीं तो फिर क्या है
सुकूने दिल किसी उन्वाँ यहाँ नहीं मिलता

जो मेरे ज़हन की तस्वीर के मुताबिक़ हो
मुझे तो आज वह हिंदोस्ताँ नहीं मिलता

यह मेरा जज़्बे मोहब्बत, खुलूसे महरो वफ़ा
मैं किस की नज़र करूँ क़दरदाँ नहीं मिलता

रफ़ी बख़्श क़ादिरी रफ़ी बदायूनी

پنجشنبه، آذر ۱۳، ۱۳۹۳

غزل : ملے ہے جب بھی وہ تنہا لگے ہے

غزل

ملے ہے جب بھی وہ تنہا لگے ہے
خود اپنی ذات میں الجھا لگے ہے

خوشی کیا غم بھی کب اپنا لگے ہے
دل اچھا ہو تو سب اچھا لگے ہے

اکیلا کر دیا ہے سب نے مجھ کو
تصور بھی گریزاں سا لگے ہے

ادھر بھی کوئی مجبوری تو ہوگی
کسے دل توڑنا اچھا لگے ہے

مجھے دور ترقی میں بھی انساں
شعور و شعر کا پیاسا لگے ہے

زمانے کی ہوا پر کیوں ہو نازاں
ہوا کو رخ بدلتے کیا لگے ہے

خدا شاہد مری حق بیں نظر کو
جو اچھا ہے وہی اچھا لگے ہے

کبھی ہے زندگی غم سے پریشاں
کبھی غم زندگی جیسا لگے ہے

رفیع بخش قادری رفیع بدایونی
_______________________________

Rafi Badayuni Poetry
Urdu Ghazal by Rafi Bakhsh Qadiri Rafi Badayuni





Find him on Facebook.

دوشنبه، تیر ۲۳، ۱۳۹۳

غزل : اِک خلش دل کے آس پاس رہے

غزل

اِک خلش دل کے آس پاس رہے
زندگی کی کوئی اَساس رہے

موتیوں کا نصیب ہے کچھ اور
لاکھ پانی پہ کوئی گھاس رہے

اس بہاروں کی رت کو کیا کہئے
کچھ شجر اب بھی بے لباس رہے

ایسا تنہائیوں کا عالم تھا
دل سے کہنا تھا میرے پاس رہے

دوسروں کی روش سے کیا مطلب
تیرا اخلاق تیرے پاس رہے

بدگمانی ہو یا ہو خوش فہمی
سب کی بنیاد کچھ قیاس رہے

چند فرصت طلب کتابوں کے
کتنے مقبول اقتباس رہے

رفیع بخش قادری رفیع بدایونی
__________________________

Rafi Badayuni Poetry
Urdu Ghazal by Rafi Bakhsh Qadiri Rafi Badayuni
Find him on Facebook.

پنجشنبه، تیر ۰۵، ۱۳۹۳

غزل : جمال یار جو اپنی خودی کی قید میں ہے

غزل

جمال یار جو اپنی خودی کی قید میں ہے
وہی جمال مری شاعری کی قید میں ہے

خرد کے شہر کے لوگوں کو کیسے سمجھائیں
سکونِ زیست تو آوارگی کی قید میں ہے

وہ حق پرست نہیں ہے کچھ اور اس کو کہو
وہ حق پرست جو بے چارگی کی قید میں ہے

کہاں سے آئے توازن کہ زندگی یارو!
اسیر ِغم ہے کبھی یہ خوشی کی قید میں ہے

یہ اُن کے نام کی برکت نہیں تو کیا ہے رفیعٌ
اثر دعا میں کبھی بندگی کی قید میں ہے

رفیع بدایونی
_____________________

Rafi Badayuni Urdu Poetry
A Ghazal by Rafi Bakhsh Qadiri Rafi Badayuni

Find him on Facebook.

دوشنبه، خرداد ۱۲، ۱۳۹۳

غزل : حلقۂ گیسوۓ خم دار سے آگے نہ بڑھے

غزل

حلقۂ گیسوۓ خم دار سے آگے نہ بڑھے
ہم کبھی ذکرِ غمِ یار سے آگے نہ بڑھے

وہ بھی تھے تذکرۂ دار سے آگے نہ بڑھے
اُن کا معیار تھا معیار سے آگے نہ بڑھے

ٹھوکریں جہدِ مسلسل کی بڑھاتی ہیں انھیں
میرے حالات کبھی پیار سے آگے نہ بڑھے

ہم سے ٹکراتے رہے آکے جہاں کے غم تھے
بادل اٹھے بھی تو کہسار سے آگے نہ بڑھے

قید آنکھوں میں وہی ایک ہے منظر اب تک
ہم کبھی جلوہ گہۂ یار سے آگے نہ بڑھے

اک اچٹتی سی نظر دل کے لئے کافی تھی
وار مخصوص تھا، اک وار سے آگے نہ بڑھے

گھر سے باہر کبھی نکلے نہ تماشہ دیکھا
لوگ جب ذات کی دیوار سے آگے نہ بڑھے

رفیع بخش قادری رفیع بدایونی

________________________________

Rafi Badayuni Urdu Poetry
A Ghazal by Rafi Badayuni
Find him of Facebook.

شنبه، اردیبهشت ۲۰، ۱۳۹۳

غزل : میرے حالات کو خوشی کی تلاش

غزل

میرے حالات کو خوشی کی تلاش
ریگ زاروں کو ہے نمی کی تلاش

ہے وہ بے سود ہو کسی کی تلاش
اس زمانے میں آدمی کی تلاش

خود کو ہم ڈھونڈنے کو نکلے ہیں
اب نہیں ہے ہمیں کسی کی تلاش

زندگی سے وہ خود بھی خوش تو نہیں
جس کا ملنا ہے زندگی کی تلاش

ایسا بدلا مزاق حسن کہ اب
بانکپن کو ہے سادگی کی تلاش

رنج و غم مجھ کو ڈھونڈتے ہی رہے
مفلسوں کو رہی غنی کی تلاش

شاہراہوں پہ میں اکیلا ہوں
ذہن میں ہے کسی گلی کی تلاش

زیست میں سایۂ سکوں کا خیال
دھوپ میں جیسے چاندنی کی تلاش


رفیع بخش قادری رفیع بدایونی
__________________________ 

Rafi Badayuni Poetry
A Ghazal by Rafi Bakhsh Qadiri Rafi Badayuni
 
Find him of Facebook.